Copied
سات خاندانوں کا یونیورسٹی، تربت یونیورسٹی
جسطرح پاکستان کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ بایئس خاندانوں کا ملک ہے اسیطرح تربت یونیورسٹی ملازمت کے حوالے سے صرف سات خاندانوں کا یونیورسٹی ہے، اگرچہ درس وتدریس کےلیے یہ مکراں کے غریب طلبہ و طالبات کےلیے ا یک سہولت ہے.
ان سات خاندانوں کے نام اس طرح ہیں. گلام فاروق، گینگزار بلوچ، ڈاکٹر کل حسن، ڈاکٹر حنیف بلوچ،غوث بخش, ڈاکٹر عبدالکیوم بلوچ،اور ڈاکٹر شبیر بلوچ شامل ہیں. ۲۰۱۳ سے لے کر اب تک ۷۰ فیصد سے زیادہ ملازمتیں انہی خاندانوں سے براہ راست یا بالواسطہ جڑے ہوے ہیں. کیوںکہ یہ لوگ ۲۰۱۳ سے لیےکر اب تک سلیکشن کمیٹی اور بورڈ کے حصہ رہے ہیں.ان معاملوں میں انہیں ڈاکٹر اختر بلوچ (لیاری یونیورسٹی) اور ڈاکٹر منظور بلوچ (اتھل یونیورسٹی) کی سر پرستی حاصل ہے.
یہ لوگ علاقے کے مختلف سیاسی پارٹیوں کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے نالائق وی سی کو بلیک میلنگ کرکے اسے اکسٹنشن پہ اکسٹنشن دلواتے رہتے ہیں اور اپنے لوگوں کو اپوائنٹمنٹ کرتے رہتے ہیں. تربت یونیورسٹی میں یہ لوبی اتنا مظبوط ہے کہ کسی غریب ہونہار کا تربت یونیورسٹی میں بھرتی ہونا ناممکن ہے. اب آپ لوگ بتائیں کہ ہم غریب کہاں جائیں، ملازمت کے مواقع اگر اپنے ادارے نہیں دے سکتے تو پھر کس کا گلہ کریں.
پچھلے ہفتے جو تربت یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ اور سلیکشن کمیٹی ہوے ہیں اس میں کچھ لوگوں نے بے ضابطیگیوں کے پہاڈ کھڑے کیے ہیں.بورڈ اور کمیٹی کو ڈاکٹر عبدالکیوم بلوچ، غوث بخش بلوچ، گینگزار، ڈاکٹر حنیف بلوچ، ڈاکٹر کل حسن، فاروق بلوچ اور ڈاکٹر شبیر نے ڈاکٹر اختر بلوچ اور ڈاکٹر منظور بلوچ کے ساتھ ملکر استعمال کرکے اپنے لوگوں کو بھرتی کیا. جس سے ہماری حق تلفی ہوی.بورڈ نے فاروق بلوچ کے خاندان کے چار، ڈاکٹر شبیر کے ایک، ڈاکٹر مالک بلوچ (ن پ) اور ظہور بلیدی (ب ا پ) کے ایک ایک جن کے نمائندے بورڈ میں ڈاکٹر کل حسن اور ڈاکٹر منظور تھے. ڈاکٹر شبیر جو ایک ذمیندارہے اور ایک ہاوسنگ اسکیم چلارہا ہے سنے میں آیا ہے کہ اس نے یونیورسٹی کے وی سی سمیت بڑے عہداداروں (گینگزار، کل حسن، حنیف، فاروق، غوث بخش، کیوم) کو ایکڑ کے حساب سے زمینیں دی ہے اور بدلے ءمیں اپنے بیوی (جسکی دو تھرڈ ڈویژن ہیں اور ایچ ای سی کے ریگولیشنز کے برعکس جو لیکچرار کیلیے اہل نہیں وی سی نے اسسٹینٹ پروفیسر بھرتی کیا) اور اسکے بھائ کو بھرتی کروایا.
ڈاکٹر حنیف بلوچ کو پچھلے ہفتے کے سلیکشن بورڈ نے اسسٹنٹ پروفیسر (ب پ س ۱۹) سے اسوسیٹ پروفیسر (ب پ س ۲۰) بنایا. حنیف بلوچ تربت یونیورسٹی کے سب سے جوان پروفیسر ہیں. ی اس کام کیلیے یہ سفر انھوں نے صرف پانچ سالوں مکمل کر لی ہے.انھوں نے اس کام کیلیے اپنے پی ایچ ڈی کے سپر وائزر کو بھی استعال کرنا چاہا لیکن وہ نا مانے(کوئ اتنا گر سکتا ہے ہم سوچھ نہیں سکتے). پھر اس نیک کام کرنے کیلیے ڈاکٹر اختر بلوچ، ڈاکٹر منظور بلوچ، ڈاکٹر کل حسن اور وی سی اس کی مد د کی. ڈاکٹر حنیف ۲۰۱۵ میں تربت یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ بھرتی ہوے حلانکہ اسکا پی ایچ ڈی بائیو ٹیکنالوجی میں تھا. جب وی سی کو پتا چلا کہ وہ استعال ہو سکتے ہیں تو اسے رجسٹرار، کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کا چیرمن اور ڈین بنایا. ڈاکٹر حنیف نے اتھارٹی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوے ایک نئے ڈیپارٹمنٹ اور اس میں صرف اور صرف ایک اسوسیٹ پروفیسر کا پوسٹ اکیڈمک کونسل اور سینڈیکیٹ سے منظور کروایا. حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر منظور بلوچ، ڈاکٹر کل حسن, وی سی اور ڈاکٹر حنیف سلیکشن بورڈ، سینڈیکیٹ، اور سینٹ کے ممبرز ہیں اور تربت یونیورسٹی کے ان تمام با قائدگیوں کے زمے دار ہیں اور انکے ساتھ ڈاکٹر اختر بلوچ بھی ملا ہوا ہے. ڈاکٹر کل حسن کے خود کا اپواٹمنٹ بھی سوالیہ نشان ہے جسکے پاس صرف ۳ سال کا ٹیچنگ تجربہ اور ۲ جرنلز میں ۱۱ آرٹیکلز اور دونوں میں وہ خود ایڈیٹوریل بورڈ کے میمبر ہیں. دونوں جرنلز زڈ کیٹگری کے ھیں اور بیشتر آرٹیکلز میں انھوں نے بس اپنے نام ڈلواے ہیں. اب ایسے لوگوں کی کیا ایکڈمک کریڈیبلٹی رہتی ہے.
اب سننے میں آرہا ہے کہ ڈاکٹر شبیر نے اپنے سالے کو بھرتی کروانے کیلیے غوث بخش، ڈاکٹر حنیف اور ڈاکٹر کیوم بلوچ کو باکو (آزر بائیجان) کے ٹوور کا اسپونسر کر رہا ہے. یہ ہے مملکت پاکستان جہاں ہمارے والدین محنت مشقت کرکے ہمیں پڑھاتے ہیں اور ہم دن رات ایک کرکے پڑھتے ہیں تاکہ اپنی غربت مٹا سکیں وہاں ڈاکٹر رزاق سابر، ڈاکٹر کل حسن، ڈاکٹر منظور، ڈاکٹر اختر، ڈاکٹر کیوم، ڈاکٹر حنیف، فاروق احمد، گینگزار، اور غوث بخش جیسے لوگ اثرورسوخ لوگوں کو بھرتی کرتے رہتے ہیں. کہاں گیا یونیورسٹی کا ٹیچر اسوسیشن جو میرٹ کی با تیں کرتا پھرتا ہے؟ اب آپ کیوں خاموش ہیں؟ کیا آپ کو نہیں پتا کہ یہا ں سکروٹنی سے لے کر ٹیسٹ انٹریو تک عوام کو بے وقوف بنانے کیلیے ایک شوشہ ہے؟ باقی وہی ہوا جو ہونا تھا. کہاں گئے ٹیچر اسوسیشن کے چیر مین ڈاکٹر حدیل بلوچ اور واہس چیرمین ڈاکٹر ریاز مزار جنہوں نے میرٹ پر بھرتی کروانے کی قسم کھائ تھی؟ کیا آپ نے بھی وی سی کو بلیک میلنگ کرکے باکو کا ٹوور پکا کر لیا ہے؟
اس سسٹم کے پڑھے لکھے ڈگری یافتہ جاہل سب مردہ باد. ھ
ایچ ای سی اور باقی سارے اتھارٹی تربت یونیورسٹی کے اخری سلیکشن بورڈ اور سلیکشن کمیٹی میں جو بے قائدگیاں، اقربا پروری، صنفی امتیاز، وغیرہ کا نوٹس لیں اور ہمارا حق ہمیں واپس دیں اور ادارے کا وقار بلند کریں.
سات خاندانوں کا یونیورسٹی، تربت یونیورسٹی
جسطرح پاکستان کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ بایئس خاندانوں کا ملک ہے اسیطرح تربت یونیورسٹی ملازمت کے حوالے سے صرف سات خاندانوں کا یونیورسٹی ہے، اگرچہ درس وتدریس کےلیے یہ مکراں کے غریب طلبہ و طالبات کےلیے ا یک سہولت ہے.
یہ لوگ علاقے کے مختلف سیاسی پارٹیوں کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے نالائق وی سی کو بلیک میلنگ کرکے اسے اکسٹنشن پہ اکسٹنشن دلواتے رہتے ہیں اور اپنے لوگوں کو اپوائنٹمنٹ کرتے رہتے ہیں. تربت یونیورسٹی میں یہ لوبی اتنا مظبوط ہے کہ کسی غریب ہونہار کا تربت یونیورسٹی میں بھرتی ہونا ناممکن ہے. اب آپ لوگ بتائیں کہ ہم غریب کہاں جائیں، ملازمت کے مواقع اگر اپنے ادارے نہیں دے سکتے تو پھر کس کا گلہ کریں.
پچھلے ہفتے جو تربت یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ اور سلیکشن کمیٹی ہوے ہیں اس میں کچھ لوگوں نے بے ضابطیگیوں کے پہاڈ کھڑے کیے ہیں.بورڈ اور کمیٹی کو ڈاکٹر عبدالکیوم بلوچ، غوث بخش بلوچ، گینگزار، ڈاکٹر حنیف بلوچ، ڈاکٹر کل حسن، فاروق بلوچ اور ڈاکٹر شبیر نے ڈاکٹر اختر بلوچ اور ڈاکٹر منظور بلوچ کے ساتھ ملکر استعمال کرکے اپنے لوگوں کو بھرتی کیا. جس سے ہماری حق تلفی ہوی.بورڈ نے فاروق بلوچ کے خاندان کے چار، ڈاکٹر شبیر کے ایک، ڈاکٹر مالک بلوچ (ن پ) اور ظہور بلیدی (ب ا پ) کے ایک ایک جن کے نمائندے بورڈ میں ڈاکٹر کل حسن اور ڈاکٹر منظور تھے. ڈاکٹر شبیر جو ایک ذمیندارہے اور ایک ہاوسنگ اسکیم چلارہا ہے سنے میں آیا ہے کہ اس نے یونیورسٹی کے وی سی سمیت بڑے عہداداروں (گینگزار، کل حسن، حنیف، فاروق، غوث بخش، کیوم) کو ایکڑ کے حساب سے زمینیں دی ہے اور بدلے ءمیں اپنے بیوی (جسکی دو تھرڈ ڈویژن ہیں اور ایچ ای سی کے ریگولیشنز کے برعکس جو لیکچرار کیلیے اہل نہیں وی سی نے اسسٹینٹ پروفیسر بھرتی کیا) اور اسکے بھائ کو بھرتی کروایا.
ڈاکٹر حنیف بلوچ کو پچھلے ہفتے کے سلیکشن بورڈ نے اسسٹنٹ پروفیسر (ب پ س ۱۹) سے اسوسیٹ پروفیسر (ب پ س ۲۰) بنایا. حنیف بلوچ تربت یونیورسٹی کے سب سے جوان پروفیسر ہیں. ی اس کام کیلیے یہ سفر انھوں نے صرف پانچ سالوں مکمل کر لی ہے.انھوں نے اس کام کیلیے اپنے پی ایچ ڈی کے سپر وائزر کو بھی استعال کرنا چاہا لیکن وہ نا مانے(کوئ اتنا گر سکتا ہے ہم سوچھ نہیں سکتے). پھر اس نیک کام کرنے کیلیے ڈاکٹر اختر بلوچ، ڈاکٹر منظور بلوچ، ڈاکٹر کل حسن اور وی سی اس کی مد د کی. ڈاکٹر حنیف ۲۰۱۵ میں تربت یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ بھرتی ہوے حلانکہ اسکا پی ایچ ڈی بائیو ٹیکنالوجی میں تھا. جب وی سی کو پتا چلا کہ وہ استعال ہو سکتے ہیں تو اسے رجسٹرار، کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کا چیرمن اور ڈین بنایا. ڈاکٹر حنیف نے اتھارٹی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوے ایک نئے ڈیپارٹمنٹ اور اس میں صرف اور صرف ایک اسوسیٹ پروفیسر کا پوسٹ اکیڈمک کونسل اور سینڈیکیٹ سے منظور کروایا. حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر منظور بلوچ، ڈاکٹر کل حسن, وی سی اور ڈاکٹر حنیف سلیکشن بورڈ، سینڈیکیٹ، اور سینٹ کے ممبرز ہیں اور تربت یونیورسٹی کے ان تمام با قائدگیوں کے زمے دار ہیں اور انکے ساتھ ڈاکٹر اختر بلوچ بھی ملا ہوا ہے. ڈاکٹر کل حسن کے خود کا اپواٹمنٹ بھی سوالیہ نشان ہے جسکے پاس صرف ۳ سال کا ٹیچنگ تجربہ اور ۲ جرنلز میں ۱۱ آرٹیکلز اور دونوں میں وہ خود ایڈیٹوریل بورڈ کے میمبر ہیں. دونوں جرنلز زڈ کیٹگری کے ھیں اور بیشتر آرٹیکلز میں انھوں نے بس اپنے نام ڈلواے ہیں. اب ایسے لوگوں کی کیا ایکڈمک کریڈیبلٹی رہتی ہے.
اب سننے میں آرہا ہے کہ ڈاکٹر شبیر نے اپنے سالے کو بھرتی کروانے کیلیے غوث بخش، ڈاکٹر حنیف اور ڈاکٹر کیوم بلوچ کو باکو (آزر بائیجان) کے ٹوور کا اسپونسر کر رہا ہے. یہ ہے مملکت پاکستان جہاں ہمارے والدین محنت مشقت کرکے ہمیں پڑھاتے ہیں اور ہم دن رات ایک کرکے پڑھتے ہیں تاکہ اپنی غربت مٹا سکیں وہاں ڈاکٹر رزاق سابر، ڈاکٹر کل حسن، ڈاکٹر منظور، ڈاکٹر اختر، ڈاکٹر کیوم، ڈاکٹر حنیف، فاروق احمد، گینگزار، اور غوث بخش جیسے لوگ اثرورسوخ لوگوں کو بھرتی کرتے رہتے ہیں. کہاں گیا یونیورسٹی کا ٹیچر اسوسیشن جو میرٹ کی با تیں کرتا پھرتا ہے؟ اب آپ کیوں خاموش ہیں؟ کیا آپ کو نہیں پتا کہ یہا ں سکروٹنی سے لے کر ٹیسٹ انٹریو تک عوام کو بے وقوف بنانے کیلیے ایک شوشہ ہے؟ باقی وہی ہوا جو ہونا تھا. کہاں گئے ٹیچر اسوسیشن کے چیر مین ڈاکٹر حدیل بلوچ اور واہس چیرمین ڈاکٹر ریاز مزار جنہوں نے میرٹ پر بھرتی کروانے کی قسم کھائ تھی؟ کیا آپ نے بھی وی سی کو بلیک میلنگ کرکے باکو کا ٹوور پکا کر لیا ہے؟
اس سسٹم کے پڑھے لکھے ڈگری یافتہ جاہل سب مردہ باد. ھ
ایچ ای سی اور باقی سارے اتھارٹی تربت یونیورسٹی کے اخری سلیکشن بورڈ اور سلیکشن کمیٹی میں جو بے قائدگیاں، اقربا پروری، صنفی امتیاز، وغیرہ کا نوٹس لیں اور ہمارا حق ہمیں واپس دیں اور ادارے کا وقار بلند کریں.



Comments
Post a Comment